Read time: 1 mins

خواجہ سرا کی بد دعا

by Salmah Ahmed
6 September 2023

Translated from English to Urdu by Anwar Shahid Khan and Taimoor Shahid

 

سبز کپڑوں میں ملبوس عورت نے ایڑیاں اپنی سواری میں گاڑتے ہوئے تلوار کو گول گھمایا اور ماہر حملہ آور کی طرح تلوار کی سَرد نوک سپاہی کے بھورے سینے میں اتار دی۔ “غدار،” وہ اپنے مہلک ہتھیار سے کام تمام کرتے ہوئے گرجی۔ اس کا لہجہ نہ تو مردانہ تھا نہ زنانہ بلکہ کسی غیر جنسی معبود کا سا تھا۔ اس کا نام کسی کو معلوم نہ تھا اورنہ کوئی یہ جانتا تھا کہ وہ گھوڑے پہ سوار چابکدستی سےتلوار لہراتی ہوئی آتی کہاں سے ہے۔ کسی نے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ سبز قبا میں اس کا سراپا سر سے پاوں تک ڈھکا ہوتا تھا، اور اس کی طاقت دس آدمیوں کے برابر۔

۱۸۵۷ کے غدر کے دوران مردوں اور عورتوں کے جتھے کے جتھے جو دہلی گیٹ پراس کی جذباتی تقریروں اور نوآبادیاتی حکومت سے آزادی کے ولولے کو دیکھ کر جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے کشمیری گیٹ پر انگریزوں سے لڑائی میں اس کے ساتھ شامل ہوئے۔

ایک دن وہ زخمی ہوکر اپنے گھوڑے سے گر گئی۔ اسے انگریزوں کی فوج نے گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد وہ کہیں دکھائی نہیں دی۔ لیکن تب سے تاریخ میں اس کا ذکر ناک میں دم کردینے والےایک قابل فخر باغی کے طور پر آتا ہے۔ وہ آسمان میں گرنے والے لاکھوں شہاب ثاقب کی طرح چمکی اور اپنے حصّہ کا کام کر کے گئی۔

تمہاری سمجھ میں کچھ آیا رانی ؟ ہمیں اپنی آزادی اور وقار کے لئےجنگ کبھی ختم نہیں کرنی چاہیئے۔

یہ استاد گلاب کی پسندیدہ کہانی تھی۔ گلا ب سرخ اینٹوں سے بنے گلاب محل نامی ایک دو منزلہ گھر کی کرتا دھرتا تھی جوناظم آباد ،کراچی میں ایک مسجد اورچکلے کے قریب واقع تھا۔ گلاب کے خاندان نے ،جو جنسی شناخت سے بالاتر لوگوں پر مشتمل تھا ان دو متضاد دنیاوٴں کو اپنا کر ان کے درمیان اپنی جگہ بنا لی تھی۔ گلاب کا دعویٰ تھا کہ وہ اس پراسرار سبز پوش باغی عورت کی نسل سے ہے جوخواجہ سرا تھی، ورنہ وہ دس مردوں جیسی طاقت کی حامل اور روزانہ ایک جادوگر کی طرح غائب اور نمودار کیسے ہوتی۔ اسے یہ بھی یقین تھا کہ ایک دن اس کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اٹھ کران لوگوں کے رویے تبدیل کردے گا جو ان سے اَکّھڑ طریقے سے پیش آتے تھے ، اورلاکھوں شہاب ثاقب کی طرح چمکے گا۔

رانی اپنی چارپائی پر اپنے سرخ نرم کھلونے کے گرد دونوں ہاتھ لپیٹے خمیدہ اندزا میں لیٹی تھی۔ ایک مرطوب سہ پہر کے سائے دیوار پر لہرا رہے تھے جو اٹھلاتے ہوئے چمکدار مخروطی شیشوں اور لہراتے ہوئے دانے دار پردوں کا سہ پہری تماشا پیلی داغدار دیوار پر پیش کر رہے تھے۔ استاد گلاب نے پانی میں ڈیٹول اور صابن ملا کر بالٹیاں بھر بھر کر دیوار سے فضلہ دھویا تھا لیکن دھبّے دیوار سے یوں چپکے ہوئے تھےجیسے چھپکلیاں اپنے جالی دار پنجوں کے ذریعے چپک جاتی ہیں۔ یہ اس صعوبت کی یاد ہانی تھی جو بعض اوقات ان کی دیواروں کے باہر گھات لگا کر بیٹھی رہتی تھی۔

رانی شاعری سیکھ رہی تھی۔ اسے شاعری پسند تھی۔ یہ وہ خوشبودارمرہم تھا جو اس کے تپیدہ اعصاب کو سکون بخشتا تھا۔

وہ اس بات پر حیران ہوتی تھی کہ غالب یاکوئی اور صاحبِ ثروت شاعر جسے شاہی منصب بھی حاصل تھااس کی روح کے زخموں کو اتنی دیا نت داری سے کیسےآشکارا کر سکتا تھا۔

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

سیاہ گول اور چمکدار آنکھوں ، کا لے سینگوں اور کالی تھوتنی والے پستہ قد فربہ کھلونےکے ارد گرد کھردری سرخ پشم لپٹی ہوئی تھی۔ یہ نہیں تھا کہ یہ اس کی سب سے پیاری ملکیت تھی۔ اس کے لڑکے کزن نے اسے یہ تحفے کے طور پہ نہیں بلکہ اس کی تضحیک میں اس کی طرف پھینکا تھا۔ ” ہیجڑے یہ لے۔ شیطان کے لئے شیطان “۔ اُس نے رانی کے گردوں کا نشانہ لے کراُسے ٹھڈے مارتے ہوے شیطانی انداز میں اپنے ہونٹ سکیڑتے ہوئے اس پر طنز کیا تھا۔ جھگڑا شروع کرنے کا الزام بھی اس دن رانی پرعائد ہوا تھا جس کی پاداش میں اسے اس رات بھوکا سونا پڑا تھا۔

یہ کھلونا اسےبہت ساری وجہوں سے عزیز تھا۔ یہ اس کے اس آبائی گھر کی واحد یادگار تھی جس کے صحن میں چنبیلی کے پودے سانپوں کو لبھاتے تھے۔ اور یہ اسے اپنےکزن کی یاد دلاتا تھا۔ کیا وہ شیطان کے جیسی دکھائی دیتی تھی؟کیا اس دنیا میں جوخدا نما مردوں کی عبادت کرتی اور بچے پیدا کرنے والی عورتوں کو اپنے قابو میں رکھتی تھی،اس کا یہی مقام تھا ؟ کیا اس کی کوئی وقعت نہیں تھی؟۔ یہ کہنا درست نہیں تھا کہ وہ معاشرے سے کٹی ہوئی تھی . معاشرے کے ایک حصے نے اس کی عزت اور انفرادیت اس سے چھین لی تھا لیکن اپنی شرائط پر اس سے تعلق روا رکھا ہواتھا۔ معاشرے نے اسے مخرب الاخلاق رنگ میں رنگ دیا تھا۔ وہ اس سے گہری تاریک رات کے گھناؤنے وقفوں میں گمنامی کا لبادہ اوڑھ کر ملتا تھا جہاں وہ اخلاق کی حدوں سے پار اپنی قباحت بے نقاب کر سکتا تھا۔

وہ چاہتی تھی کہ برکت سے سرفراز کرنے والی اس نعمت پہ اترا سکے، جو شری رام نے ایو دھیا کے دروازے پر ان کا انتظار کرنے پر اس کی برادری کو عطا کی تھی۔ لیکن اس کے پاس ایسی کوئی مافوق الفطرت قوت نہیں تھی۔ وہ کپڑے کی گڑیا تھی جسے آسانی سے ادھیڑااورسیا جا سکتا تھا یا وہ لیگو کا محل تھی جسے آسانی سے توڑاورواپس جوڑا جا سکتا تھا۔ اس دیومالائی کہانی کی شہرت کہ ان کی دعا یا بد دعا ناقابل تصور اثرات کا شگن ہوتی ہے بس سودا بیچنے کے لئے ایک اچھا ٹوٹکا تھی۔

کھانسی کے دورے نے اسے اپنے شکنجے میں لے لیا اوراسے دانتے کی دوزخ کے عین مرکز میں گھسیٹ لیا جہاں شیطان نے اسے اپنی بتیسی دکھائی اور وہ ہوا کے لئے ہانپنے لگی۔ اس نے اپنی سانس کی سوکھی ہوئی نالیوں میں آکسیجن کے مرغولے کو خرخرا ہٹ کے ساتھ کھینچنے کی کوشش کی۔ کووِڈ وائرس بھی اس سے قبل کے کئی بار ہوئے یِیسٹ اِنفیکشن کی طرح ایک پیشہ ورانہ خطرہ تھا۔ خواجہ سراوں کو ملازمتوں کے اکثر شعبوں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرناپڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ صرف انہی پیشوں سے روزی کماتے ہیں جس کے لئے انہیں تربیت دی جاتی ہے، یعنی جسم فروشی، بھیک مانگنا اور شادی بیاہ میں ناچ گانا۔

 یہ صورت حال جنوری ۲۰۲۰ میں اس وقت بلکل پلٹ گئی جب ایس این جی پی ایل (سوئی نار د رن گیس پائپ لائن) کے واجب الادا گیس اور پانی کے بل وصول کرنے کے لئے سرکاری صاحبوں نے’ ڈیٹ کلکٹر‘یعنی قرضہ وصولی کے عہدے تخلیق کئے جوخاص طور پر خواجہ سراوٴں کے لیے پیدا کئے گئے تھے۔ رانی کوپتہ نہیں تھا کہ یہ کس ذہن کی کاوش ہے لیکن اسے یہ اختراع بہت ذہین لگی۔ سرکاری صاحبان جانتے تھے کہ لوگ خواجہ سراوٴں سے ہراساں ہوتےاور کتراتے ہیں ، اوران کی فضونیِ جوبن اورچھب کو سہہ نہیں پاتے۔ وہ اگر لوگوں کو خیرات دینے پر آمادہ کر سکتے ہیں تو وہ یقیناً واجب الادا قرض ادا کرنے کے لئے بھی ان پر دباوٴ ڈال سکتے ہیں۔

اُس ٹھٹھرتی صبح کو جب دھوئیں اور دھند کی پٹی کراچی کی ان خستہ حال عمارتوں کے اوپرچھائی ہوئی تھی جو گلابی افق کے کناروں سے چمٹے شیشے کے چوکھٹوں والے بیس منزلہ ٹاورز سے کھچا کھچا جڑی ہوئی تھیں ،خواجہ سراوٴں کی رہائش گاہ گلاب محل کے کرتا دھرتا گلاب استاد نے اپنے لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ وہ مٹی کی اینٹوں سے بنے ہوئے صحن کے درمیان کھڑی تھی۔ جوں جوں وہ پنے جذ بات کی آگ بھڑکا رہی تھی اس کاطلائی گول بندہ اس کے کان میں جھول رہا تھا۔

” اب اچھی لڑکیاں بن کر صاحبوں کومتاثر کرو۔ ۔ ہم کھوئی ہوئی میراث حا صل کرنے والے ہیں۔ ہم اس لمحے کے بہت قریب ہیں کہ ماضی کی شان و شوکت کا کچھ حصہ حاصل کر لیں۔ نو آبادیاتی دور سے قبل پندرھویں سے انیسویں صدی تک مغلیہ دور حکومت میں ہماری برادری ٹیکس کلکٹر کے طور پر طاقتور سرکاری حیثیت کی حامل تھی تا آنکہ ۱۸۶۴ میں انگریزوں نے ہم پراغلام بازی کا قانون تھوپ کر ہمیں معاشرے کے مرکزی دھارے سے نکال پھینکا اور ان کے مقامی بھورے چیلےانہی کے نقش قدم پراس لئے چلتے چلے آرہے ہیں کیونکہ ان کے حقیر تنگ نظر ایجنڈے کے لئے یہی موزوں ہے۔ گلاب سانس لینے کے لئے رُکی پھر نڈھال ہوکر اپنی چارپائی پر گر پڑی۔ ” میری صحت مجھے اس قسم کی بھاگ دوڑ کی اجازت نہیں دیتی، لیکن تم مجھے کسی صورت بھی شرمندہ نہ کرانا۔ “

اِن ہدایات کے ساتھ رانی اپنے کام کے لئے نکل پڑی۔ وہ سنہری لیس والے ارغوانی دوپٹے کے ساتھ زرد رنگ کے ایک نئے چمکدار شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ اس نے سوختہ شکر کے رنگ کی اپنی پسندیدہ وِگ پہنی ہوئی تھی جس کی گھنگریا لی لٹیں اس کے شانوں تک آرہی تھیں۔ وہ اس بات پرحیران ہوئے بغیر نہ رہ سکی کہ وہ کسی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس لئے بھی کہ لباس کے علاوہ انکھوں کی خیرہ کرنے والے سورج کی روشنی جیسی امید کی شعائیں اس کے اندر سے پھوٹ رہی تھی۔ ایس این جی پی ایل کے صاحب بدر ابڑو کے دفتر کا رنگ سرسوں جیسا زرد تھا۔ پان چباتے ہوئے عینک کے موٹے چشمے کے پیچھے ان کی چھوٹی آنکھیں دھندلی دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ اپنا چھوٹا سا بدن لئے چمڑے کی کرسی پر دراز تھے۔ وقفے وقفے سے وہ چاندی کے برتن میں جو اُن کا تیل سے چپڑے بالوں والا چپڑاسی لئے کھڑا تھا پیک تھوکنے کے لئے اپنی انگلیاں چٹخاتے۔

رانی نے نا دہندگان اور ان کے پتوں کی ایک فہرست بدر ابڑو سے لے لی۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ اُن کے گھروں میں جائے اور انہیں اس حد تک زچ کرے کہ وہ رقم کا کچھ فیصد ادا کردیں یا پوری رقم ادا کرنے کا وعدہ کریں۔ اس فرض کی ادائیگی اسے بائیں ہاتھ کا کھیل لگی۔ وہ اس کی عادی تھی۔

اُس کی فہرست میں درج پہلے گھر کی مالک کوئی بیگم تبریز عزیز تھیں۔ ان کے تین منزلہ مکان کو دیکھ کر رانی کو اپنا بالکونیوں اوربیضوی محرابوں والا کشادہ گھر یاد آگیا جس کے ستونوں سے منی پلانٹ کی بیلیں لپٹی رہتی تھیں اورجس کی کھڑکیوں کے شیشے رنگ دار ڈیزائن کے تھے۔ بلوغت کے وقت جنس کے آشکار ہونے پرگھر سے نکال دیے جانے سے قبل اس نےاس گھر میں توجہ سے محروم ایک بچے کی زندگی گزاری تھی۔

عمارت کا گیٹ کھلا دیکھ کر اسے اچنبھاسا ہوا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اس نے خود کو طرح طرح کے شاندار گملوں اور پودوں سے آراستہ گھر کےسامنےوالے با غیچے میں پایا۔ آنکھوں کو خیرہ کرنے والی دھوپ کی چمک ،گہرے سبز ے کی درخشانی اورپھولوں سے سجے شاندار وسیع منظر کے بیچ سے مٹی میں لت پت لیکن خوبرو ایک نوجوان ابھرا، ایسا جیسے اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کا سانس چند لمحوں کے لئے وہیں اٹک گیا اور وہ مبہوت سی ہوکررہ گئی تا آنکہ اس نے اس شخص کوچِلّاتے اور ہاتھ سے اشارے کرتے ہوئے دیکھا۔ اسے کثرت سے برا بھلا کہہ کر واپس بھیج دیے جانے کی عادت تھی لیکن اس شخص کی طرف سے جو اُسے پہلی نظر میں ہی بھاگیا تھا ایسا رویّہ زہر لگا۔ وہ واپس گیٹ کی طرف جارہی تھی کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔

وہ نوجوان اس کے سامنے کھڑا تھا۔ رانی نے اس کیچڑ کی طرف نظر ڈالی جو اس نے اس کے کندھے پر تھوپ دی تھی۔ وہ ابھی تک کیچڑ میں سنے اپنے ہاتھ لہرا رہا تھا اور رانی اپنی دھڑکن کی گرج سے بالاتر ہوکر اس کے الفاظ پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ” دیکھو مجھے معلوم ہے کہ کسی ہجڑے کی ناراضگی یا اس کی بد دعا لینا نیک شگن نہیں ہوتا اس لئے براہ مہربانی مجھے بد دعا نہ دو۔ یہ رقم لے لو۔ میرے پاس یہی کچھ ہے۔ میں ایک غریب مالی ہوں۔ میرے پاس اس سے زیادہ نہیں۔ میں نے غلطی سے گیٹ کھلا چھوڑ دیا تھا اوراگر میرے ما لکوں کو پتہ چل گیا کہ میں نے تمہیں اندر آنے دیا ہے توہ مجھے نوکری سے نکال دیں گے۔ مہربانی کرو اور یہاں سے چلی جاو۔ “

رانی نے اپنا آپ اپنے پانچ فٹ دس اِنچے قد کی اونچائی تک سیدھا کیا اوراسے تیزابی نظروں سے گھورا، حالانکہ ایسا کرنے میں اسے بڑی مشکل پیش آئی۔ “میں کوئی بھکاری نہیں۔ میرا نام رانی ہے۔ ” اس نے وہ سرکاری شناختی کارڈ اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا جو اسے نیا نیا ملا تھا۔ “میں یہاں ایس این جی پی ایل کی طرف سے سرکاری ڈیوٹی پر ہوں۔ تمہارے مالکوں نے گیس کا بل نہیں دیا ہے، اور اس عالیشان گھر کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس پیسوں کی کمی نہیں۔ ان کے ذمہ تینتالیس ہزار پانچ سو اکیس روپے واجب الادا ہیں۔ معاف کرنا۔ مجھے ان سے ملنا ہے۔ “

رانی نے جب نقش ونگار سے مزین ٹیک کی لکڑی کے بنے ہوئے ان دروازوں کی طرف دھاوا بولا جن پر جگہ جگہ سنہرے رنگ سے لکھی ہوئی قرآنی آیات کندہ تھیں تو نوجوان مالی خاموش ہوکر پیچھے ہٹ گیا۔ دروازہ ایک نوکرانی نے کھولا اور اس نے بھی وہی حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی جو مالی نے کیا تھا لیکن اسے بھی اسی پرتمکنت بد لحاظی اور بقایا جات کے حوالے کا سامنا کرنا پڑا۔

نوکرانی پیچھے ہٹی اور دوڑتے ہوئے گہرے سنگِ مرمر سے مزین دالان میں پہنچی جہاں سے وہ خاتون خانہ کو ساتھ لے آئی۔ وہ ایک پُر شباب عورت تھی جس کے بارے میں رانی نے اندازہ لگایا کہ وہ بیگم تبریزعزیز ہے۔ اس کی ناک بھوں چڑھی ہوئی تھی اور آنکھیں قہر برسا رہی تھیں۔ ” کیا مسئلہ ہے؟ اس گھر میں نہ تو کوئی شادی ہوئی ہے نہ بچہ پیدا ہوا ہے۔ چلو یہ لو اور جاو۔ ” اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور جہاں تک ممکن تھا اپنے جسم کو فاصلے پر رکھتے ہوئے اپنی فربہ گوری انگلیوں میں اڑسے ہوئے چند سو روپے کے نوٹ رانی کی طرف بڑھائے۔

” میڈم۔ میں کوئی بھکاری نہیں” رانی نے سختی اور فخر سے اپنے سرکاری شناختی کارڈ اور واجب الادا بل کو ہاتھ میں لہراتے ہوئے کہا۔ ” میں ایس این جی پی ایل کی طرف سے آئی ہوں جن کے آپ نے چالیس ہزار روپے دینے ہیں۔ جن کی آپ فورا ادائیگی فرمادیں۔ “

 اس پر خاتون نے مغلظات کی بو چھاڑ کردی۔ اُس کے چہرے کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی جو جھریاں دور کرنے والی بوٹوکس کے کمال کی گواہی تھی۔ لیکن اس کی جلد کا رنگ جوسرخ ہوگیا تھا گہرا ہوکر بینگنی ہوگیا۔ وہ رد ِبلا کے لئے قرآن کی آیتیں پڑھ کر اللہ کی مدد مانگنے لگی۔

رانی کچھ دیر کے لئے تو بد حواس ہو گئی۔ اسے امیر عورتوں سے ،جو خواجہ سراوٴں سے ملاقات پر عموما ًگھبراجایا کرتی تھیں، مڈبھیڑ کی عادت نہیں تھی۔ جب گا لیوں کے سیلاب میں وقفہ آیا تواس نے اپنی ہتھیلیوں کے نچلے حصوں کو آپس میں جوڑ کراپنے مخصوص انداز میں تالی بجائی اور گالم گلوچ سے بھرپور الفاظ میں جوابی حملہ کر دیا،جس کا اختتام اُس نے اِس تنبیہ کے ساتھ کیا کہ آپ رقم ادا کردو ورنہ میرے جیسے اورآئیں گے اور اپنے خطبات سے تمہیں اس جنت سے باہر نکا ل پھینکیں گے جو تم نے بدعنوانی سے اپنے لئے بنائی ہے۔ “

باہر جاتے ہوئے اس نے عورت کو بلند آواز میں دھمکی دیتے ہوئے سنا کہ اگر وہ دوبارہ آئی تو اسے پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ رانی جب سانچے میں ڈھلے ہوئے لوہے کے گیٹ سے باہر نکل رہی تھی تو اسے کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کی پشت پناہی کے لئے حکومت اس کے ساتھ ہے۔ وہ گھر سے باہر نکل آئی تو اس نے کسی کو اپنا نام پکارتے ہوئے سنا۔ جب اس نے خوبرو مالی کو دوڑتے ہوئے اپنی طرف آتے دیکھا تو اس کے دل نے ایک قلابازی کھائی۔ ” تم نے بڑی دلیری کا ثبوت دیا۔ رانی، ہے نا؟”

رانی نے جو یکایک اس کی مہربان نگاہوں کے سامنے شرما گئی تھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔

“میرا نام فہد خان ہے۔ میرا تعلق شمال کے بالائی علاقے میں واقع کالام سے ہے۔ میں کام کی تلاش میں چھ مہینے پہلےاس شہر آیا تھا۔ میرے کزن نے مجھے یہاں لگوا دیا۔ تم کہاں کی ہو ؟ “

” یہیں کراچی کی۔ ” رانی یہ بتاتے ہوئے شرمندگی سی محسوس کررہی تھی کہ اس کا آبائی گھرجو اتنا شاندار تو نہیں تھا اس مہنگے علاقے سے چند گلیاں چھوڑ کر تھا۔ اس کا باپ کاروباری و سیاحتی دورے پر کہیں گیا ہوا ہوگا اور اس کی ماں ڈپریشن کی گولیاں نگل کر بے جان و بے حس سے دن گزارنے کی کوشش کر رہی ہوگی تاکہ اسے درد کم سےکم محسوس ہو۔ اس کے پانچ بہن بھائی اپنے اپنے نفع بخش کاموں اور مروجہ جنسی زندگی گزارنے میں مصروف ہوں گے۔ کوئی اس کی کمی محسوس نہیں کر رہاہوگا اوراس کی یاد ایک ڈراؤنے خواب کی طرح فراموش کی جا چکی ہو گی۔

ان کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ عام طور پر وہ کلفٹن کے ساحل سے ملحق ابھری ہوئی چٹانوں کی ایک لمبی پٹی کے سائے میں ملا کرتے تھے۔ رانی نے اس کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیاتھا۔ پوشیدہ دکھوں اور خواہشات کا لاوا اس کے اندر سے یوں بہہ نکلا تھا جیسے کوئی بے قرار دریا جنت کی سی جھیل میں جا گرے۔ فہد اس کے لطیفوں پر ہنستا تھا لیکن جو شاعری وہ اس کے لئے کیا کرتی تھی اس کی فہم سے بالا تر تھی۔

اس نے تھرتھراتی ہوئی انگلیاں سے اس کے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا،” تم کراچی میں میری پہلی سچی دوست ہو۔ تمہارے جیسا ایک اور پیچھے وطن میں بھی تھا۔ اس کا نام بالا تھا۔ وہ بھی۔۔۔ مختلف تھا۔ ” اس لا پرواہ تقابل پر حسد کی ایک چنگاری رانی کے دل پہ لپکی اور اسے چوٹ پہنچی۔ فہد کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس کا تعلق ایک کھاتے پیتے خاندان سے تھا۔ ” انہوں نے تم سے قطع تعلق کیوں کرلیا؟”

” وہ چاہتے تھے کہ میں مرد ہونے کا ڈھونگ رچاوٴں۔ آخرمیں ان کی یہ خواہش یہ تھی کہ میں شادی کر لوں اور کسی معصوم عورت کی زندگی تباہ کر دوں۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی جھوٹی عزت قائم رکھنے کے لئے میں دھوکہ دہی اور منافقت جیسے گناہوں کا ارتکاب کروں۔ “

تین مہینے بعد کووِڈ وائرس نے زور پکڑ لیاتھا اور تباہی مچارہا تھا۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کااعلان کر دیا تھا۔ قرضے کی وصولی کے لئے رکھے گئے خواجہ سراوٴں کو ایک حقیر سی رقم کا اخری چیک دے کر فارغ کر دیا گیا۔ استاد گلاب نے سب کے لفافوں میں رکھی ہوئی رقم کو گنا تو معلوم ہوا کہ کل رقم ایک لاکھ تھی۔ “اس سے لاک ڈاؤن کی غیر معینہ مدت میں گزارہ نہیں ہو سکے گا۔ ہمارے خوراک ،بجلی پانی، اور میڈیکل کے اخراجات اس سے زیادہ ہیں۔ ڈولی کو پھیپھڑوں کا سرطان بتایا گیا ہے۔ اس کا علاج کیسے ہوگا؟ ہمیں معمول کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ سر گرمیاں شروع کرنی ہوں گی۔ “

خواجہ سراسڑکو ں اور ٹریفک سگنل پرایک دفعہ پھر بھیک مانگنے کے لئے جوق در جوق پھیل گئے۔ وہ اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹتے جب تک سڑکوں پرگھومنے والی پولیس انہیں ڈنڈے مار کر واپس نہیں بھگا دیتی۔ ” ہائے! ہم کیا کریں؟ اپنی روزی کیسے کمائیں ؟” گلاب نے دوپولیس والوں سے غصے اور طنز کے اس انداز میں تالی بجا کر کہا کہ مونچھ بردار مَردوں کو جھر جھری سی آگئی۔

” سرکارکا حکم ہے، ” پولیس والوں نے دور سےچلّا کر جواب دیا۔ “گر نہیں مانے تو تمہیں گرفتار کرنا پڑے گا”

شادی بیاہ کے اجتماعات پر پابندی تھی اوریوں گلاب استاد اور اس کے خواجہ سراوٴں کے لئے پیسے کمانے کا واحد ذریعہ جسم فروشی رہ گیا تھا۔ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کی سرکاری تنبیہ کے باوجود بہت سے مرد گلاب محل میں چوری چھپے گھس آنے کے لئے بے تاب تھے۔

صندل کے شربت کی چسکی لیتے ہوئے جو چاندی اور جامنی رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس پندرہ سالہ کاجل نے ایک ادا سے اپنی نقلی لمبی پلکیں جھپکا کراسے پیش کیا تھا ،ٹرک ڈرائیور دلدار نے اپنی مونچھوں کو مروڑا دیا۔ ” کووِڈ شووڈ جیسی کوئی چیز نہیں ہے بھائی۔ یہ سب ہماری معیشت کو تباہ کرنے کے لئے غیر ملکی سازش ہے گویا اس کام میں ابھی مزید کسی مدد کی ضرورت تھی۔ “

گلاب استاد گاہکوں کا انتخاب کرنے کی آسائش کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی اور نہ ہی اس کے پاس وہ ذرائع تھے کہ وہ گھرمیں داخل ہونےسے قبل کسی کا وائرس ٹیسٹ کر سکتی۔ بہرحال اس نے اس بات کا یقینی انتظام کردیا تھاکہ ڈولی کو آنے جانے والے مردوں سے دور ایک کمرے میں مقفل رکھا جائے۔ اگرچہ اس کے نرخ کم تھے اور دکان بھی منفرد تھی لیکن پھربھی گلاب کو اپنے ہمسائے میں واقع چکلے سے کاروباری مقا بلے کےبارے میں چوکنارہنا پڑتا تھا۔ ” کچھ مرد جنسی عمل کے لئےخواجہ سراوٴں کو عورتوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ ” کاجل نے تکیے کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے دلدارسے پوچھا جب وہ اس کے اوپر غُرّاا رہا تھا۔ ” دونوں دنیاوٴں کے مزے۔ ” وہ اس کے اندر انزال کرتے ہوئے ہانپا، اس یقین کے ساتھ کہ اس کا بیج ایک تاریک بنجر گڑھے میں بہہ گیا ہے۔ ” سماجی خدمت بھی ہے۔ ورنہ تم لوگ کیسے زندہ رہو گے۔ ” کا جل کو سخت غصہ آیا۔

لاک ڈاؤن شروع ہونے کے دو ہفتے بعد رانی سے ملنے فہد گلاب محل آیا۔ رانی کو یہ بات زہر لگی کہ استاد گلاب نےاس کے ساتھ وقت گزارنے کے فہد سے بھی اتنے ہی پیسے لئے جتنے وہ دوسروں سے لیتی تھی۔ رانی کو فہد کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا تھا۔ اس دن رانی نے دیکھا کہ فہد کو شدید کھانسی تھی لیکن وہ اسے بھول کر رانی کی نرم گرمیمیں کھو جانا چاہتا تھا۔ رانی نے شکوہ نہیں کیا لیکن بستر چھوڑنے سے قبل کھانسی کی دوا اسے بہرصورت پلادی۔ چند دنوں کے بعد رانی کو زور کا بخار ہوا اور کچھ اور خواجہ سراوٴں کو بھی وائرس لگ گیا۔ گلاب استاد انہیں شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں لے گئی۔ ہسپتال کے عملے نے انہیں دھکے دے کر نکا ل دیا، یہ کہہ کر کہ ان کے پاس خالی بستر نہیں۔ “ہم کیا کریں؟ ہمیں بتاو کہ ہم کیا کریں ؟” گلاب سخت مزاج رسیپشنسٹ اوران وردی پوش چوکیداروں سے التجا کر رہی تھی جو انہیں ہسپتال سے باہر دھکیل رہے تھے۔

“کسی معجزے کے لئے دعا مانگو۔ وہ جو تمہارا مال بیچنے کا منفرد نسخہ ہے۔ تم کہتے ہو تمہاری دعاوں میں اثر ہے، ہے نا؟” نرس نے طنز کیااور اپنا رخ موڑ کر بجتا ہوا فون سننے میں مصروف ہوگئی۔

دو مہینے کے اندر اندر تین خواجہ سرا فوت ہوگئے۔ ڈولی کی اگرچہ کیمو تھیراپی ہو رہی تھی مگر وہ بھی نہ بچ سکی۔

رانی وائرس سے لڑتی رہی اورتھوکتے کھنگا رتے ہوئے ڈھٹائی سےزندگی کے ساتھ چپٹی رہی۔ وہ مرنے سے پہلے فہد سےایک دفعہ ملنا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے جواستاد گلاب نے اسے بارہا بتایا تھا۔ اسے مروجہ نظام کے خلاف لڑنا اور اسے جھنجوڑنا تھا۔

اس پہ ہذیان کی سی کیفیت تاری ہوگئی اور اس کے ذہن پہ دھندلکا چھا گیا۔ کاجل اسے چمچ سےدال کا شوربا پلاتی اور روٹی کھلاتی۔ اس سے زیادہ کی ان کی استطاعت نہیں تھی۔ بالآخر اسے پسینہ آیا اوربخارٹوٹ گیا۔ وہ استاد گلاب کو جسے اس نے کئی دن سےنہیں دیکھا تھا آواز دینے کے لئےلڑ کھڑاتی ہوئی دروازے کہ طرف بڑھی ہی تھی کہ کاجل یہ بری خبرسنانے کے لئےاس کی طرف دوڑتی ہوئی آئی کہ استاد گلاب کا انتقال ہوچکا ہے۔ وہ پرچون کی دکان تک جارہی تھی کہ ایک تیز رفتار ٹرک اسے کچلتا ہوا گزر گیا تھا۔ رانی دھڑام سے فرش پر گر پڑی اور مٹی کی بنی ہوئی ٹائلوں پر نہ جانے کب تک بیٹھی خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔ خواجہ سرا اس کے ارد گرد جمع ہوگئے اور اسے سینے سے چمٹا لیا۔ ” تم ہم میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پڑھی لکھی ہو۔ “روبی نے اس سے کہا۔ “تمہیں ہی اب ہمارا استاد بننا چاہئے۔ ہمارے گھر کا نام رانی نگر ہونا چاہیئے۔ “سب نے اتفاق کیا اور رانی کو اپنا آئندہ استاد بننے کے مشورے پہ خوشی سے اثبات کیا۔

“تم لوگوں نے گلاب استاد کو کہاں دفن کیا ہے ؟ ” لیکن اسے جواب معلوم تھا۔ قریب ہی ایک بےنام و نشان سا قبرستان جس کی حدود کا تعین کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کیا کرتے تھے۔ اسے وہ وقت یاد تھا جب گلاب اس پر اپناحق جتاتے ہوئے اس کے آبائی گھر کےسامنے والے دروازے پر اس کے گھر والوں کے لئے رحمت بن کر آئی تھی جنہوں نے اسے خوشی خوشی اس کے حوالے کر دیا تھا۔ وہ سوچتی تھی کہ کیا گلاب کو اسے لے جانے کے لئے اس کے ابا نے بلوایا تھا؟

“اب تم اپنوں میں ہو۔ تمہاری برادری تمہیں نہ تکلیف پہنچائے گی نہ اکیلا چھوڑے گی۔ ہم تمہارا سہارہ بنیں گے۔ ” گلاب استاد نے اس سے کہا تھا جس پر رانی کو اپنے آپ کوجوں کا توں قبول کئے جانے کا احساس ہوا تھا جو اس کی تیرہ سال کی زندگی میں ناممکنات میں سے تھا۔

رانی نے اپنی محسن کی قبر پر جانا ملتوی کر دیا، اور جیسے ہی اس میں تھوڑی بہت طاقت آئی اس نے سیاہ شلوار قمیض پہنا، گردن کے گرد سندھی اجرک چادر لپیٹی اور ایس این جی پی ایل کے دفتر جا پہنچی۔ احاطے میں کسی قسم کی سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بے خوف عمارت میں داخل ہو گئی۔ بدر ابڑو اپنی چکن بریانی پر ہاتھ مارنے ہی والا ہی تھا کہ اس نے رانی کو موت کے فرشتے کی طرح اپنے سر پر موجود پایا۔

” تمہیں اندر کس نے آنے دیا؟ نکلو، نکلو ، تمہیں لاک ڈاؤن کے قوانین کا نہیں پتہ؟” بدر ہڑبڑایا اور میز پہ پڑی گھنٹی کواپنی گھی میں لت انگلی سے زور سے دبایا۔ کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے دفتروں کے محدود عملے میں نااہلی بے دلی اور سستی اور بڑھ گئی تھی۔ وہ کھانے کے وقفے کو طول دیتے تھے اور کئی گھنٹوں کے لئے غائب ہوجاتے تھے۔

“مجھے اپنی نوکری واپس چاہیئے ابڑو صاحب۔ ” رانی آنکھوں میں انکھیں ڈالے اپنی جگہ پر ڈٹی رہی۔ مجھے آپ کی طرف سے مہراوردستخط کے ساتھ بطور ’کریڈٹ کنٹرولر ‘مستقل نوکری کا پروانہ چاہیئے۔ آپ کومعلوم ہے کہ میں نے یہ کام خوش اسلوبی سے انجام دیا تھا اور نوکری کے چند مہینوں کے اندر آپ کے تمام بقایا جات وصول کرکے لا دئیے تھے۔ میں نے دس لاکھ روپے بازیاب کئے تھے جس پر مجھے کمشن تو دور کی بات ہے کسی نے شکریے کا ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ “

“کمشن؟ شکریہ ؟” بدر نے اپنا سر پیچھے کی طرف جھٹک کر قہقہ لگایا۔ ” تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا کام ایک تجربہ تھا۔ کیسی باتیں کر رہی ہو ! تمہاری نوکری کبھی پکی نہیں ہونی تھی۔ “

” ٹھیک ہے لیکن اسے تبدیل کرنا تو آپ کے اختیار میں ہے۔ “

” نہیں ،میرے اختیار میں نہیں ہے، اور اگر ایسا ہوتا بھی تو شہر میں ہزاروں پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کے ہوتے ہوئے میں تمہیں ملازم کیوں رکھتا ؟”

” اس لئے کہ ہم بھی آپ کے شہر کا حصہ ہیں۔ ہم بھی آپ میں سے ہیں۔ ہمارا تعلق بھی اسی دھرتی سے ہے۔ یہ اجرک دکھ رہی ہے؟ ” رانی نے قرمزی اور نیلے رنگ کی بلاک پرنٹ شال کو اپنی مٹھی میں لے کر اس کی میز کے اوپر تھامتے ہوئے کہا۔ “یہ چادر میرے باپ کی ہے۔ میرا اصلی نام محمد رعنا سو مرو ہے۔ میں بھی آپ کی طرح سندھی ہوں۔ لیکن میری بدقسمتی میری بایولوجی میں ہے۔ وہ بایو لوجی جس پر میرا بس نہیں اور نہ اس میں میرا کوئی قصور ہے۔ آپ ذرا ذرا سی بات پر انشاللہ کہتے ہو ،یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ جب ہماری باری آتی ہے تو آپ اس کی مرضی کو مسترد کر دیتے ہو۔ آپ ہمارے ساتھ اس جسم کی بنا پر تفریق کرتے ہو جو اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ اس انحراف کی قیامت کے دن کیا صفائی پیش کروگے ؟ ہمارے لئے جسم فروشی ،شادیوں پرناچنے اور بھیک مانگنے کے صرف تین پیشے کیوں ہیں ؟ “

” اگر تمہارا تعلق کھاتے پیتے سندھی خاندان سے ہے تو تمہارے گھر والوں کو چاہیے تھا کہ تمہاری سرجری کروا کر تمہیں اصلی مرد یا عورت میں تبدیل کروا دیتے۔ “

“اصلی ؟ ” رانی اتنی زور سے دھاڑی کی ابڑوکرسی میں دبک کر رہ گیا۔

رانی کواتنا غصہ اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اس کے ہتھے سے اکھڑنے کی وجہ کچھ تو غم تھا اورکچھ مایوسی کی انتہا۔ بھیانک انگارےلفظوں کاایک آتش فشاں اس کے منہ سے پھٹ پڑا۔ اس نے اپنے جسم کو آگے کی طرف جھکا یا اوراپنی ہتھیلیاں میز پر رکھ دیں۔

” مجھے دیکھو۔ ، کیا میں تمہارے لئے اصلی نہیں ہوں ؟ کیا میں بھوت پریت ہوں ؟ تم قابل رحم جاہل شخص !کوئی طبی علاج یا سرجری میرے خواجہ سرا ہونے کی شناخت کا “علاج” نہیں کرسکتی گویا کہ وہ کوئی جراثیم ہو جسے ڈیٹول سے صاف کر دیا جائے۔ جیسے کوئی ویکسینیشن کووِڈ کا علاج نہیں کرسکتی ،صرف اس کے اثرات کم کر سکتی ہے۔ میری شناخت میرے خون میں میرے ڈی این اے میں لکھی ہوئی ہے۔ تم مجھے اپنے کامل مرد اور عورت کے ماڈل میں تبدیل کرنے کے لئے چیر پھاڑ کروگے اوراگر تم کوشش کرو بھی تو مجھے کامل مذکر یا مونث میں تبدیل نہیں کر سکتے۔ میں اس کے بعد بھی تم لوگوں کے لئے مسخ شدہ ہی رہوں گی۔ میں تمہارے لئے ایک بے ضابطگی ہی رہوں گی۔ لیکن اللہ نے مجھے ایسے ہی پیدا کیا ہے۔ “

“لعنت ہو تم اور تمہارے شہر پہ جہاں ہمیں عزت وقار سے محروم کر کے چوہوں کی طرح کونوں کھدروں میں جھونکا جاتا ہے۔ اب تمہیں ہم جیسوں کی بد دعا لگے گی۔ وہ قدرتی وسائل جنہیں جن تم اپنے گھمنڈ میں اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتےآئے ہو تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ تم اور تمہارے مغربی آقاوٴں نے آب و ہوا سے وہی سلوک کیا ہے جو تم خواجہ سراوٴں کے ساتھ کرتے ہو۔ تم نے اپنی شرائط پہ ہمارا ا ستعمال اور استحصال کیا ہےاور خیال خام کی طرح ایک زمانے سے پس پشت ڈالا ہواہے۔ اب تمہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا۔ “

اپنی آنکھوں میں دہکتے ہوئے غصے کے غبار سے ماورا اس نے بدر ابڑو کے چہرے پر دہشت کی ایک جھلک دیکھی جس سے اسے کسی قدر تسلی ہوئی۔ وہ واپس مڑی اور چلتی ہوئی عمارت سے باہر نکل آئی جہاں اس نے دیکھا کہ آسمان تاریک ہوتا جا رہا تھااورہوا کی رفتار تیز تر۔ اس نے اپنی قسمت کو ہزارویں بار کوسا۔ وہ اپنے بے ضرراسلحہ خانے سے لفظو ں کے کھیل اور ہوّا دکھا کے ڈرانےجیسے گنے چنے ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ نیم خالی سڑکوں سے واپس اپنے گھر جاتے ہوئے تند وتیز ہواؤں سے مقابلہ کرنے کے لئے اس کے دبلے پتلے بدن کو خاصا جتن کرنا پڑ رہا تھا۔ سڑک کے دوسری جانب سڑک کے کنارے ایک ریستوران میں اس نے فہد کو دیکھا۔ برقعے میں ملبوس ایک عورت کے برابر جس کی گود میں ایک بچہ تھا وہ ایک بنچ پر بیٹھا ہوا تھا۔ عورت ایک طرف کو مڑی تو اس نے دیکھا کہ وہ برگر کھا رہی تھی اور اس کے خوبصورت نوجوان چہرے پرمسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ فہد نے اس کے کندھے کے گرد اپنا بازو لپیٹا تو وہ شرما گئی اور اس کا بازو اپنے کندھوں سے ہٹا دیا۔ فہد نے بچے کو اس کی گودسے لے کر چوما۔ پدرانہ محبت کا فخر اس کے چہرے پر روشن تھا۔ رانی کو اپنے اندر کچھ اہم ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔

وہ گندی گلی میں پیرگھسیٹتی ہوئی اپنی واحد پناہ گاہ گلاب محل پہنچ گئی جو اب رانی نگر میں تبدیل ہو گئی تھی۔ کرن نے دروازے پر ہی سوالوں کی بو چھاڑ سے اس کا استقبال کیا لیکن وہ ایک لفظ بھی بولے بغیر سیدھے اپنے کمرے میں پہنچی اور دروازہ بند کر لیا۔ ہوا کے تھپیڑے پرانے گھر کی کھڑکیوں اور دیواروں سے ٹکرا رہے تھے اور ٹی وی پر شدید گھبراہٹ کا شکار رپورٹر قیامت کے نقیب بنے ہوئے تھے۔ کراچی سینا نامی اس سائیکلون کے مسمارکن راستے میں تھا جو بحیرہٴ عرب میں دیکھا گیا تھا۔ بارش کے ساتھ ڈیڑھ سو کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں شہر کو مسلسل تندہی سے اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھیں۔ گوادر کی بندرگاہ پر پانچ ماہی گیرکشتیاں نگلی جا چکی تھیں۔ ساحل کے ساتھ ساتھ واقع دس لاکھ رہائشیوں کو اپنے اندر سموئے مچھر کالونی ، لاٹھی بستی اور مبارک گاوٴں کی کچی بستیاں پانی میں غرق ہوچکی تھیں۔ ناپید ہوتے ہوےچمرنگ کے ساحلی جنگلات طوفان سے دفاع کے لیے ناکافی تھے۔ بل بورڈ اُکھڑ کر ہوا کے ساتھ اڑتے ہوئے بلند بالا عمارتوں کے شیشوں سے ٹکرا رہے تھے۔ بجلی کے تار ٹوٹ کر سیلابی پانی میں ڈوب گئے تھے۔ سائیکلون کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی وجوہات میں سے ایک وجہ بجلی کا کرنٹ بھی بن گئی تھی۔ تین سو افراد جاں بحق اور دو سو زخمی ہوئے تھے۔ رانی نگر کے دائیں اور بائیں مسجد اور چکلےکی عمارتوں کو سخت نقصان پہنچا تھا۔ لیکن رانی نگر کو آنچ بھی نا آئی تھی۔

طوفانی تباہی کے تیسرے دن بدر ابڑو نے رانی نگر کے سامنے کے نیم شکستہ دروازے پر دستک دی اوررانی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ رانی نے دالان میں بچھی استاد گلاب کی سابقہ چارپائی پر بیٹھ کر اس کا خیر مقدم کیا۔ بدر ابڑو کے چھدرے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی انکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ اس کے ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا اور اس کی قمیض سلوٹوں سے بھری تھی۔

 “میرے گھر میں سیلاب کا پانی بھر گیا ہے اور چھت گر گئی ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود میرا نوعمر لڑکا موٹر سائیکل باہر لے گیا اور اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور وہ ہسپتال میں ہے۔ میں جانتا ہوں اس سب کے پیچھے تمہارا ہاتھ ہے۔ بدر اس کرسی میں جو اس کے لئے رانی کے سامنے رکھی گئی تھی ڈھیر ہو گیا۔ اس نے دعا اور التجا کے انداز میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر رانی سے کہا ” پلیز میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ اپنی بد دعا واپس لے لو۔ “

“ابڑو صاحب تسلی رکھو۔ ” رانی نے چائے کی لطیف چسکی لیتے ہوئے کہا۔ ” میں آپ کو وہمی ٹائپ نہیں سمجھتی تھی۔ اس دن آپ کے دفتر میں شدت جذبات میں آکر ہو سکتا ہے میں نے اپ کو برا بھلا کہہ دیا ہو لیکن یقیناً آپ یہ نہیں سمجھتے کہ میں اپنے جادوسے کیٹگری فائیو کا سائیکلون بلا سکتی ہوں؟”

بدرابڑو حواس باختہ ہوکر خاموش ہوگیا اور ان خواجہ سراوٴں کو دیکھنے لگا جو چہرے پر تعجب کے تاثرات لئے اس کے ارد گرد جمع تھے۔

رانی نے حقیقت پسندانہ لہجے میں اپنی بات جاری رکھی۔ ” لیکن اگر آپ ماضی کی خطاوٴں کا کفارہ اداکرنا چاہتے ہیں تو میں بھلا آپ کو روکنے والی کون ہوتی ہوں؟”

 بدر سامنے کو لپکا۔ ” ہاں یہ دیکھو۔ ” اس نے مہر لگا اور دستخط شدہ نوکری کا ایک پروانہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، ” جیسا تم چاہتی تھیں تمہاری نوکری میں تمہیں واپس دے رہاہوں۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہم ایک لیپ ٹاپ اور موبائل فون کے ذریعے آپس میں رابطہ رکھ سکتے ہیں۔ تم ہمارے لئے ایڈمنسٹریشن کا کام کر سکتی ہو۔ اس کی ہم تمہیں مناسب ٹریننگ دیں گے۔ “

رانی نے اپنا سر ہلایا۔ باہر کی دیواروں پر اب بھی بارش کی بو چھاڑ تھی اور چھت کے سوراخوں سے رستہ پانی دالان میں جمع ہو رہا تھا۔

“تمہیں اندازہ نہیں میں اس طوفان میں کتنی مشکلوں سے یہاں پہنچا ہوں۔ پلیز میری بات مانے بغیر مجھے واپس نہ بھیجنا۔ “

رانی نے اپنا کپ نیچے رکھا۔ “تمہیں میری یہاں موجود تمام بہنوں کوبھی یہی نوکری دینی ہوگی۔ “

“۔ لیکن۔۔۔ اس کے لئے مجھے اپنے اوپر والوں سے منظوری کی ضرورت ہوگی”

رانی اٹھی اور واپس اپنے کمرے کی طرف مڑی۔ ” آپ سے مل کر اچھا لگا۔ واپس جاتے وقت براہ مہربانی دروازہ بند کرتے جائیے گا۔ “

” ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ تم سب کی نوکریاں بحال ہو گئیں۔ “

About the Author

Salmah Ahmed

Salmah Ahmed is an accountant living in London. She oscillates between her two great loves—her mischievous daughter and creative writing. She’s taken a fiction writing course from Faber Academy and is working on her first novel. Her work has been published in TMYS June 2022 Review, a print anthology by the literary magazine Tell Me […]

Related